کیا جنات نے دوران_کربلا یا بعد از کربلا امام حسین کی مدد کی؟ ملا واعظ کاشفی کی کتاب روضة الشھدا میں زعفر جن کے قصے کا تحقیقی مطالعہ سید عرفی ہاشمی ایسوسی ایٹ پروفیسر آسٹریلین کیتھولک یونیورسٹی آسٹریلیا

واقعہ_ کربلا انسانیت کو عزت، قربانی اور استقامت کی بلند ترین مثال عطا کرتا ہے۔ تاہم وقت کے ساتھ ساتھ اس خالص اور سنہری داستان میں افسانے، مبالغے اور خود ساختہ قصے شامل کر دیے گئے۔ کیا واقعی جنوں نے کربلا یا کربلا کے بعد امام حسین یا امام حسین کے ساتھیوں کی مدد کی تھی ائیے ایک تحقیقی نگاہ سے ان "جناتی" روایات کا جائزہ لیتے ہیں جنّات اور امام حسینؑ: حقیقی واقعہ روایات بتاتی ہیں کہ کربلا کے میدان میں جنّات کی ایک جماعت امام حسینؑ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور نصرت کی پیشکش کی۔ علامہ محمد باقر مجلسیؒ اپنی کتاب بحار الانوار میں لکھتے ہیں: "امام حسینؑ نے جنّات کی مدد قبول نہیں کی، تاکہ یہ معرکہ صرف انسانوں کی آزمائش اور ظالم و مظلوم کے فرق کا معیار بنے" (مجلسی، 1983) اسی طرح شیخ عباس قمیؒ نفس المهموم میں بیان کرتے ہیں: "جنّات کی جماعت حاضر ہوئی، مگر امامؑ نے فرمایا کہ اللہ کا ارادہ ہے کہ انسان اپنے کردار اور انتخاب سے تاریخ بنائیں" (قمی، 2007) یہ بات واضح ہے کہ کربلا کے میدان میں کوئی غیبی فوج یا مافوق الفطرت مداخلت نہیں تھی، بلکہ یہ معرکہ انسانوں کے لیے تھا۔ اگر یہ بات ٹھیک ہے تو اسلامی تاریخ اور خصوصا برصغیر کی عزاداری کی تاریخ میں تاریخ میں زعفر جن کا واقعہ کہاں سے در آیا۔ اگر جنات نے کربلا کی جنگ میں یا اس کے بعد مداخلت نہیں کی تو زعفر جن کی روایت کا ماخذ کیا ہے؟ زعفر جن کی کہانی سب سے پہلے ملا حسین واعظ کاشفی کی کتاب روضۃ الشہداء میں سامنے آئی، جو امام حسینؑ کی شہادت کے تقریباً نو سو سال بعد لکھی گئی (کاشفی، 1979)۔ اس داستان میں زعفر جن کو ایک فرضی جنّی کردار کے طور دیو مالائی مگر شاعرانہ انداز سے پیش کیا گیا، جو شہادت کے بعد ماتم کرتا اور جنّاتی لشکر کے ساتھ ظالموں پر حملہ کرتا ہے۔ مگر محدثین اور محققین نے اس قصے کے حوالے سے کچھ سوال اٹھائے ہیں: • اگر یہ قصہ سچ ہے تو ابتدائی معتبر کتب میں اس کا ذکر کیوں نہیں؟ کم و بیش 900 سال کے بعد واعظ کاشفی کو اس واقعے کا کیسے علم ہوا جسے صدر اسلام میں اوراسکے بعد کربلا پر کام کرنے والے بہترین محققین بھی دریافت نہیں کر پائے • کتبِ اربعہ شیعہ، صحاحِ ستہ اہلِ سنت اور معتبر شیعہ اور سنی تاریخی مصادر میں اس کی عدم موجودگی اس کے صحیح نہ ہونے کی واضح دلیل ہے۔ • اس کہانی کا کوئی مستند سندی سلسلہ نہیں، جو اصولِ حدیث کے مطابق ہر روایت کی بنیاد ہے اور نہ اس پر اجماع وارد ہوا ہے۔ متقدمین میں سے بھی کسی ایک معتبر محقق مفسر یا محدث نے اس روایت کو نقل نہیں کیا۔ تحقیقی روایت کے پیش نظر پہلے literature review کے ذریعے اس مسئلے کی پوزیشن کا جائزہ لیتے ہیں قدیم و جدید علما کی زعفر جن اور روضہ الشہداء کے حوالے سے رائے علما و فقہا کی آراء آیت اللہ سیستانی دام ظلہ اس سلسلے میں فرماتے ہیں: "مجالس میں فقط معتبر اور سند یافتہ روایات بیان کرنا جائز ہے، افسانوی اور جھوٹی کہانیوں، جیسے زعفر جن، کو بیان کرنا شرعی طور پر ممنوع ہے" (دفتر سیستانی، 2017) آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی بیان کرتے ہیں: "زعفر جن جیسے جھوٹے کرداروں نے کربلا کی حقیقت کو ڈرامہ بنا کر پیش کیا اور عوامی سوچ کو مسخ کیا" (مکارم شیرازی، 2014) علامہ سید محسن امینؒ کہتے ہیں کہ زعفر جن کی روایت کی کوئی شرعی، حدیثی یا تاریخی بنیاد نہیں۔ انکا کہنا ہے: "زعفر جن اور اس جیسے کردار عوامی افسانہ ہیں، جنہیں واعظ کاشفی نے روضۃ الشہداء میں شامل کیا، اس کتاب کی کوئی حدیثی یا تاریخی سند نہیں" (امین، 1960، ص 324) محدث نوریؒ (شیخ حسین بن محمد تقی نوری طبرسی) نے زعفر جن اور اس جیسی من گھڑت داستانوں کو دین میں تحریف قرار دیا۔ وہ لکھتے ہیں: "افسوس کہ عوام اور بعض نادان خطباء نے ایسی داستانوں کو مجالسِ حسینؑ میں بیان کرنا شروع کر دیا جو حقیقت میں بے بنیاد، غیر مستند اور خالصتاً افسانہ ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ مشہور کتاب 'روضۃ الشہداء' ہے، جو جذبات ابھارنے اور گریہ کروانے کے لیے لکھی گئی، نہ کہ سند اور تحقیق کی بنیاد پر" (نوری، 1893، ص 45) مزید فرماتے ہیں: "منبر پر زعفر جن اور اس جیسے خیالی کرداروں کی کہانیاں بیان کرنا دیانت کے خلاف ہے اور دین میں تحریف ہے" (نوری، 1893، ص 47) شہید مرتضیٰ مطہریؒ کے مطابق: "کربلا کے بارے میں ایسے جھوٹے قصے رائج کیے گئے جو صرف عوام کو جذباتی بنانے کے لیے ہیں، ان میں زعفر جن جیسے فرضی کردار شامل ہیں، جن کی کوئی سند نہیں، نہ تاریخ میں کوئی اصل ہے" (مطہری، 1990، ص 275) پھر لکھتے ہیں؛ روضۃ الشہداء ایک عوامی جذباتی کتاب ہے، اس میں شامل زیادہ تر کہانیاں یا تو جھوٹ ہیں یا مبالغہ آمیز، اور ان کا منبرِ حسینؑ پر بیان کرنا دین کی خدمت نہیں بلکہ تحریف ہے" (مطہری، 1990، ص 278) آیت اللہ العظمیٰ میرزا جواد تبریزیؒ کہتے ہیں: "جو بات سند، عقل اور دین کے اصولوں پر پورا نہ اترتی ہو، اسے دین کا حصہ بنانا تحریف ہے، عوامی جذبات ابھارنے کے لیے افسانے گھڑنا دینی خیانت ہے، جیسے روضۃ الشہداء میں موجود کئی جھوٹی کہانیاں" (مظفر، 1955، ص 89) آیت اللہ شیخ محمد صادق نجمیؒ (محققِ تاریخِ عاشورا) بیان کرتے ہیں: "روضۃ الشہداء اور عوامی قصہ گوئی نے عاشورا کو ایک خیالی ڈرامہ بنا دیا، زعفر جن جیسے جھوٹے کردار دین اور کربلا کی حقیقت کو مسخ کرتے ہیں" (نجمی، 1999، ص 157) آیت اللہ شیخ محمد ہادی معرفتؒ (محققِ علومِ قرآن) کا قول ہے "روضۃ الشہداء، زعفر جن اور اس طرح کی روایات قرآن، سنت اور عقل سے متصادم ہیں، عوامی ذہن کو گمراہ کرنے کا ذریعہ ہیں" (معرفت، 2001، ص 211) علامہ سید جعفر مرتضیٰ عاملیؒ (مؤرخِ سیرتِ اہل بیتؑ) نے روضۃ الشہداء پر شدید تنقید کی۔ ان کا قول ہے: "روضۃ الشہداء تاریخی تحقیق کا ماخذ نہیں، اس میں موجود مبالغہ، افسانہ اور جھوٹ نے واقعۂ کربلا کو عوام کے سامنے مسخ شدہ شکل میں پیش کیا" (عاملی، 2003، ص 332) علامہ محمد رضا مظفرؒ (مؤسس جامعۃ النجف) زعفر جن کی روایت کی مذمت میں لکھتے ہیں: "جو بات سند، عقل اور دین کے اصولوں پر پورا نہ اترتی ہو، اسے دین کا حصہ بنانا تحریف ہے، عوامی جذبات ابھارنے کے لیے افسانے گھڑنا دینی خیانت ہے، جیسے روضۃ الشہداء میں موجود کئی جھوٹی کہانیاں" (مظفر، 1955، ص 89) دیگر محققین کی رائے • علامہ مرتضیٰ عسکریؒ کے مطابق: "روضۃ الشہداء جیسی کتابوں نے خرافات کو دین کا حصہ بنایا اور عوامی سطح پر تحریف کو فروغ دیا" (عسکری، 1994) • ڈاکٹر علی شریعتیؒ لکھتے ہیں: "کربلا کو جھوٹی کہانیوں اور فرضی کرداروں میں چھپانے کا آغاز اسی طرح کے واعظوں سے ہوا" (شریعتی، 1977) • ڈاکٹر محمد ابراہیم آیتیؒ: "روضۃ الشہداء جیسے مصادر نے کربلا کی حقیقت کو متاثر کیا، جھوٹ کو تاریخ میں شامل کر دیا" (آیتی، 1978) زعفر جن جیسی بے سند روایات کربلا کے واقعے سے جوڑنے کے بارے میں دیگر مجتہدین کی اصولی تنقید • آیت اللہ نائینیؒ: "دین میں خرافات، من گھڑت کہانیوں اور سند کے بغیر روایات کو بیان کرنا امت کو جہالت میں دھکیلنے اور دین کی تحریف کا سبب بنتا ہے" (نائینی، 1923) آیت اللہ خوئی: "تحقیق کے بغیر ہر روایت، چاہے کتنی ہی جذباتی کیوں نہ ہو، دین میں داخل کرنا ممنوع ہے۔ مجالسِ حسینؑ میں خرافات اور افسانوی کہانیوں سے پرہیز کیا جائے" (خویی، 1989، ص 119) • آیت اللہ خامنہ ای: "بغیر سند روایات اور مبالغہ آمیز واقعات جو دین میں شامل کیے جاتے ہیں، عاشورا کے اصل فلسفے کو مسخ کرتے ہیں" (خامنہ ای، 2012) • امام خمینیؒ: "بعض واعظ اور قصہ گو دین کے مقدس نام پر ایسی جھوٹی کہانیاں سناتے ہیں جن کی کوئی اصل نہیں، یہ دیانت کے خلاف اور امت کو گمراہ کرنے کا ذریعہ ہیں" (خمینی، 1985) • آیت اللہ گلپائیگانیؒ: "مجالسِ حسینؑ میں فقط معتبر اور سند یافتہ روایات بیان کی جائیں، جھوٹی یا افسانوی کہانیاں حرام ہیں" (دفتر گلپائیگانی، 1990) • آیت اللہ وحید خراسانی: "غیر معتبر، بغیر سند اور عقل و دین کے خلاف بات دین میں شامل کرنا گناہِ کبیرہ ہے" (وحید خراسانی، 2015) • علامہ علی نقی نقویؒ: "دینی بیانیے میں افسانہ سرائی کا داخل ہونا فکری زوال اور عوامی گمراہی کی علامت ہے" (نقوی، 1985) زعفر جن کی روایت کو ناقابلِ قبول قرار دینے کی وجوہات 1. سند اور مصدر کا فقدان کوئی بھی روایت قابلِ قبول نہیں جب تک اس کی مسلسل، متصل اور ثقہ راویوں کی سند موجود نہ ہو۔ زعفر جن کی کہانی بغیر سند بیان کی گئی، جو اسے فوراً مسترد کر دیتی ہے (امین، 1960)۔ 2. متقدمین کی خاموشی کربلا کے واقعے کو مکمل اور بھرپور طریقے سے مضبوط سندوں کے ساتھ ڈاکومنٹ کرنے والے علماء شیخ مفیدؒ، شیخ صدوقؒ، علامہ طبرسیؒ، ابنِ شہر آشوبؒ، طبری، بلاذری جیسے مؤرخین اور محدثین نے اس واقعے کو نقل نہیں کیا، جو اس کی جعلی نوعیت ظاہر کرتا ہے (صدر، 1972)۔ 3. واعظ کاشفی کا غیر معتبر مؤلف ہونا واعظ کاشفی خود کوئی محدث یا محقق نہیں تھے بلکہ عوامی واعظ اور قصہ گو تھے، جن کی تحریروں میں علمی اصولوں اور سند کی کمی نمایاں ہے یہی سبب ہے کہ ان کی کتاب عوامی حلقوں تک رہی لیکن قم مشہد اور نجف سمیت کسی اہم حوزے کے نصاب کا حصہ نہیں بنی (کاشفی، 1979)۔ 4. عقل اور شریعت سے تضاد امام حسینؑ کی طرف سے جنّات کی مدد کو مسترد کرنا، اور پھر بعد میں زعفر جن جیسے کردار کا ظہور، عقلی اور دینی اصولوں کے خلاف ہے (مجلسی، 1983؛ قمی، 2007)۔ 5. دینی اور فکری تحریف زعفر جن اور اس قسم کی من گھڑت کہانیوں نے واقعۂ کربلا کی اصل روح کو متاثر کیا اور منبرِ حسینی کو افسانہ سرائی کا اڈہ بنا دیا (نوری، 1893؛ مطہری، 1990)۔ عقلی نتیجہ نقلی اور عقلی دونوں موارد کی مدد سے اس سوال کا جواب نفی میں ہے کہ جنات نے کربلا یا بعد از کربلا امام حسین کی کوئی مدد کی یا ان کے لئے کوئی کارنامہ سر انجام دیا۔ تمام قدیم و جدید علما اس بات پر متفق ہیں کہ دین میں خرافات، جعلی قصوں اور سند کے بغیر روایات کو شامل کرنا نہ صرف علمی خیانت ہے بلکہ امت کے فکری بگاڑ اور دین کی تحریف کا سبب بنتا ہے اور اس کے نقصانات بہت زیادہ ہیں: من گھڑت کردار کو کربلا کا حصہ بنا کر عوام کو گمراہ کیا گیا۔ زعفر جن کے نام پر سبیلیں، نیاز، لنگر اور چڑھاوے کا غیر شرعی رواج عام ہوا۔ بچوں کی طلبی، منتیں اور دعاؤں کو زعفر جن سے جوڑ کر توہمات کو فروغ دیا گیا۔ جعلی مصائب اور مرثیوں میں زعفر جن کو امام حسینؑ کے اصحاب میں شامل کر کے تاریخ مسخ کی گئی۔ اسے امام حسینؑ کی فضیلت کی دلیل بنا کر اصل تاریخی حوالوں کو پسِ پشت ڈالا گیا۔ بڑے علمائے دین کی تنبیہات اور فتووں کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ جو شخص حقیقت بیان کرے، اس پر محاذ کھول دیا جاتا ہے، حق بات دبائی جاتی ہے۔ نتیجتاً بدعتیں دین کا حصہ بن کر عوام کے عقیدے اور کربلا کی اصل روح کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ میں برصغیر کے جید مجتھد سید علی نقی نقوی نقن صاحب کے ایک مشہور قول پر اپنی گفتگو ختم کرتا ہوں۔ علی نقی صاحب فرماتے ہیں "جب دین میں جذبات کو برتری دے کر عقل اور علم کو پسِ پشت ڈال دیا جائے، تو نتیجہ صرف فکری زوال اور عوامی گمراہی کی صورت میں نکلتا ہے۔ دین کو افسانہ سرائی اور غیر علمی جذبات سے محفوظ رکھنا ہر صاحبِ عقل کی ذمہ داری ہے" (نقوی، 1985، ص 211) (ڈاکٹر) سید عرفی ہاشمی ایسوسی ایٹ پروفیسر آسٹریلین کیتھولک یونیورسٹی آسٹریلیا 30-06-2025 ریفرنسز آیتی، م. ا. (1978). بررسی تاریخ عاشورا. تہران: نشر دانشگاهی۔ عسکری، م. (1994). معالم المدرستین (جلد 1). بیروت: دارالتعارف۔ امین، م. (1960). اعیان الشیعہ (جلد 1). بیروت: دارالتعارف۔ دفتر گلپائیگانی. (1990). استفتاءات و فتاویٰ. قم: مؤسسہ گلپائیگانی۔ دفتر سیستانی. (2017). استفتاءات و فتاویٰ. نجف اشرف: دفتر آیت اللہ العظمیٰ سیستانی۔ خمینی، ر. (1985). صحیفۂ نور (جلد 10). تہران: وزارتِ ثقافت و ارشاد اسلامی۔ خامنہ ای، س. ع. (2012). تحریفاتِ عاشورا اور ہماری ذمہ داری. تہران: مرکز نشر انقلاب۔ قمی، ش. ع. (2007). نفس المهموم. قم: دارالحدیث۔ کاشفی، ح. و. (1979). روضۃ الشہداء. تہران: انتشارات امیرکبیر۔ مجلسی، م. ب. (1983). بحار الانوار (جلد 44). بیروت: دار احیاء التراث العربی۔ مکارم شیرازی، ن. (2014). تحریفات در تاریخ عاشورا. قم: مرکز نشر آثار اسلامی۔ مطہری، م. (1990). حماسۂ حسینی. قم: مرکز تحقیقات اسلامی۔ نائینی، م. ح. (1923). تنبیہ الامۃ و تنزیہ الملۃ. نجف: مکتبۃ الاسلامیہ۔ نقوی، ع. ن. (1985). اسلامی ثقافت اور عصری مسائل. لکھنؤ: ناظمی پریس۔ نوری، ح. م. (1893). لؤلؤ و مرجان فی شروط المِنبر الحسین. نجف اشرف: دارالکتب الاسلامیہ۔ شریعتی، ع. (1977). شہادت. تہران: حسینیہ ارشاد۔ سبحانی، ج. (2015). ادب الحدیث و الرواۃ. قم: مؤسسہ امام صادقؑ۔ وحید خراسانی، ح. (2015). فقہ عاشورا و تحریف زدائی. قم: دفتر وحید خراسانی۔ آیتی، م. ا. (1978). بررسی تاریخ عاشورا. تہران: نشر دانشگاهی۔

We use cookies to enable essential functionality on our website, and analyze website traffic. By clicking Accept you consent to our use of cookies. Read about how we use cookies.

Your Cookie Settings

We use cookies to enable essential functionality on our website, and analyze website traffic. Read about how we use cookies.

Cookie Categories
Essential

These cookies are strictly necessary to provide you with services available through our websites. You cannot refuse these cookies without impacting how our websites function. You can block or delete them by changing your browser settings, as described under the heading "Managing cookies" in the Privacy and Cookies Policy.

Analytics

These cookies collect information that is used in aggregate form to help us understand how our websites are being used or how effective our marketing campaigns are.